مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ فی الحال جنگ بندی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، جبکہ آبنائے ہرمز بدستور ایران کی جانب سے بند ہے اور اس وقت صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے آمدورفت کی اجازت حاصل ہے۔
مہر نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سید رضا صدرالحسینی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی علاقوں میں بیرونی طاقتوں کی جانب سے جاری کشیدگی میں عارضی وقفہ دیکھنے میں آیا، حالانکہ اس سے قبل دو ہفتوں کے دوران امریکہ کی فوجی کارروائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس دو روزہ وقفے نے ماہرین اور ذرائع ابلاغ میں مختلف شکوک وشبہات کو جنم دیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران ہمسایہ ملک عمان نے جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے طریقۂ کار پر بات چیت کے لیے اپنے وفود ایران بھیجے ہیں۔ لممکن ہے امریکہ یہ سمجھ رہا ہو کہ ایران فوجی جارحیت کے معاملے کو پس پشت ڈال کر دوبارہ سفارت کاری کی طرف لوٹ آئے گا، اسی لیے اس نے عارضی طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روک دی ہیں۔
صدرالحسینی نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کی مسلسل جارحانہ پالیسیوں اور فوجی مداخلت کے پیشِ نظر، ایران امن، سلامتی اور علاقائی استحکام پر اپنے مؤقف کے باوجود امریکی جارحیت کو نظرانداز نہیں کر سکتا اور اپنے دفاع اور جارح کو سزا دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم موجودہ حالات میں جنگ بندی کے حوالے سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔
آپ کا تبصرہ